چنئی،9/اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )تمل ناڈو کی سیاسی پارٹیوں کے لیے ناک کا سوال بنی آرکے نگر اسمبلی سیٹ پر ہونے والے ضمنی انتخابات کو الیکشن کمیشن منسوخ کر سکتا ہے۔کمیشن کے ذرائع کی مانیں،تو علاقے میں ووٹ خریدنے کے لیے بڑی مقدار میں پیسے کی تقسیم کی خبروں کے بعد الیکشن کمیشن یہ قدم اٹھا سکتا ہے۔فی الحال کمیشن محکمہ انکم ٹیکس سے ملی اطلاعات کا جائزہ لے رہا ہے۔کمیشن اس پر پیر کو کوئی سخت فیصلہ لے سکتا ہے، یہاں 12/اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔گزشتہ سال کمیشن نے اے آئی اے ڈی ایم کے اور ڈی ایم کے کے لیڈروں کی طرف سے ووٹ کے بدلے نوٹ تقسیم کرنے کی شکایات پرتمل ناڈو کی اراواکوریچی اور تھنجاور اسمبلی سیٹیوں کا الیکشن منسوخ کر دیا تھا۔ہندوستان کے انتخابات کی تاریخ میں یہ اپنے آپ میں پہلا معاملہ تھا، جب پیسے کے استعمال کو لے کر پولنگ منسوخ کی گئی ہو۔قابل ذکرہے کہ محکمہ انکم ٹیکس نے الیکشن کمیشن کو ایک رپورٹ سونپی ہے جس میں اس نے بتایا ہے کہ آر کے نگر اسمبلی سیٹ پر ہونے جا رہے ضمنی انتخاب کے لیے اے آئی اے ڈی ایم کے کے ششی کلا گروپ نے ٹی ٹی وی دیناکرن کے حق میں رائے دہندگان کو لبھانے کے لیے 89کروڑ روپے رائے رہندگان کے درمیان تقسیم کیا ہے، خاص بات یہ ہے کہ نوٹ تقسیم کرکے ووٹ حاصل کرنے کی ذمہ داری وزیر اعلی کو بھی دی گئی ہے۔محکمہ انکم ٹیکس کے ذرائع سے ملی معلومات کے مطابق، حکمراں اے آئی اے ڈی ایم کے میں وی ششی کلا گروپ نے چنئی کی آرکے نگر اسمبلی سیٹ کے ضمنی انتخابات میں ششی کلا کے بھتیجے ٹی ٹی و ی دیناکرن کی حمایت کے لیے رائے دہندگان کو 89کروڑ روپے دیئے ہیں۔